Friday, October 10, 2014



نعت
کبھی تو میری بھی طلبی ہوگی حبیب ے مصطفیٰ کے دربار میں
کبھی تو میں بھی آقا کے قدموں کے نشان چوموں گا
زبان پہ ضبط رہا اگر، آنکھوں میں سیلاب امڈ نہ آیا
اب تلک نہ بلانے کا پھر، میں سبب ضرور پوچھوں گا 
یہ گزارش بھی ہوگی یہیں پڑا رہنے دیں مجھے
یا پھر اس غلام کو بار بار بلانے کا وعدہ لوں گا
ایک بار وہاں پہنچوں پھر مجھے کوئی ہٹاے کیسے
اتنے برسوں کی تڑپ کو، چند دنوں میں، کیسے مٹا پاؤں گا
لاکھوں کو میرے مصطفیٰ بلاتے ہیں اپنی اور، ہر برس 
اس سفر سے جو محروم ہوں، مجھے اس کا مداوا کرنا ہوگا 
کہتے ہیں اجازت چاہیے سفر ے دیار ے نبی کیلئے
کہاں بھٹکتا رہا ہوں، میری ہی غفلت کا نتیجہ ہوگا  
اس مرتبہ پھر، جو میرا بلاوا نا آیا اگر
وہاں جانے کی آس، میرے زندہ رہنے کا ہی بہانہ ہوگا 
روز ے محشر پہ کون کر پایگا جدا مجھے انسے
گا چھوڑوں نہ کبھی کو دامن کے آپ کیلئے شفاعت اپنی 
اے خدا میرے نصیب میں جانے کا پروانہ ہوگا کہ نہیں
میں تو بس آپ کے حضور درود و سلام بھیجتا رہوں گا

No comments:

Post a Comment

Retirement, and beyond! (Part-1: Work-life)

Sixth year into the retirement, and the major part of the life spent with WAPDA still haunts while you are waking up (and are in a relaxing ...